28 جنوری 2026 - 15:48
رفح گزرگاہ کی بندش انسانی المیہ بن گئی، علاج کے انتظار میں 1260 سے زائد فلسطینی مریض شہید

غزہ اور مصر کے درمیان رفح گزرگاہ کی مسلسل بندش کے باعث ہزاروں فلسطینی مریضوں کی زندگیاں شدید خطرے سے دوچار ہو گئی ہیں، جبکہ بیرونِ ملک علاج کی اجازت نہ ملنے کے سبب اب تک 1260 سے زائد مریض شہید ہو چکے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فلسطینی وزارتِ صحت نے رفح زمینی گزرگاہ کی مسلسل بندش اور غزہ سے مریضوں اور زخمیوں کو علاج کے لیے باہر جانے سے روکے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال کے باعث مریضوں کی حالت تیزی سے بگڑ رہی ہے اور ان کی زندگیاں براہِ راست خطرے میں ہیں۔

وزارتِ صحت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 20 ہزار مریض، جن کی طبی ریفرل فائلیں مکمل ہیں، تاحال غزہ سے باہر علاج کے لیے اجازت کے منتظر ہیں۔ شدید ادویات کی کمی، طبی آلات کی قلت، خصوصی علاج کی سہولیات کی بندش اور اسپتالوں کے بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی کے باعث فوری منتقلی کے منتظر مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔

بیان کے مطابق، اس فہرست میں شامل 440 مریضوں کی حالت نہایت تشویشناک ہے اور انہیں فوری طبی امداد کی اشد ضرورت ہے، جبکہ اب تک 1268 فلسطینی مریض علاج کے لیے روانگی کی اجازت کے انتظار میں شہید ہو چکے ہیں۔

فلسطینی وزارتِ صحت نے واضح کیا کہ کینسر میں مبتلا مریض اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقوں میں شامل ہیں، کیونکہ تشخیصی اور خصوصی علاج کی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث ان کی حالت خطرناک حد تک بگڑ چکی ہے۔ اس وقت تقریباً 4 ہزار کینسر کے مریض فوری طور پر غزہ سے باہر علاج کے منتظر ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ طبی ریفرل رکھنے والے 4500 مریض بچے ہیں، جبکہ 7 مئی 2024 سے رفح گزرگاہ کی بندش کے بعد اب تک صرف 3100 مریض ہی غزہ سے باہر علاج کے لیے جا سکے ہیں۔

فلسطینی وزارتِ صحت نے ایک بار پھر رفح گزرگاہ کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریضوں اور زخمیوں کی جانوں کو درپیش سنگین خطرات کی تمام تر انسانی ذمہ داری متعلقہ فریقوں پر عائد ہوتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha